چھوڑ اس نے دیا آزمانے کے بعد
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiچھوڑ اس نے دیا آزمانے کے بعد
ایک مدت ہوئی مسکرانے کے بعد
وہ کسی اور سے پیار بھی کرتا تھا
مجھ کو ہوئی خبر اک زمانے کے بعد
چین سے سو نہیں پایا میں رات بھر
یاد آئی بہت اس کے جانے کے بعد
جنگ دشمن سے میں اس لیے ہارا ہوں
چھوڑ اپنے گئے دل دکھانے کے بعد
زخم میرے ابھی تک بھرے ہی نہیں
ہوش آئی نہیں چوٹ کھانے کے بعد
دیکھتا روز ہوں راستہ اس کا میں
آیا واپس نہیں ہے وہ جانے کے بعد
اشک شہزاد تھم میرے پائے نہیں
سوچتا میں رہا ہجر آنے کے بعد
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






