چپکے چپکے سب سے چھپ کے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Malaysiaچپکے چپکے سب سے چھپ کے
شب ساعت میں ڈرتے ڈرتے
اک کاغز پر دل کی باتیں
الٹے سیدھے لکھ دیتی ہوں
چپکے چپکے سب سے چھپ کے
اس کی آوازیں سنتی ہوں
اس کی تصویروں کو میں تکتی رہتی ہوں
چپکے چپکے سب سے
رنگ برنگے رنگوں سے میں
نام کو اس کے لکھ دیتی ہوں
چپکے چپکے سب سے چھپ کے
رنگ برنگے رنگوں سے میں
نام کو اس کے دتی ہوں
چپکے چپکے سب سے چھپ کے
ڈھونڈتی رہتی ہوں میں اس کو
دھک دھک کرتی ہر دحڑکن میں
چپکے چپکے سب سے چھپ کے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






