چلو کچھ خواب بنتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillچلو کچھ خواب بنتے ہیں
بہاروں کے ۔ نظاروں کے
محبت کے ۔ سہاروں کے
تمنا کے ۔ کناروں کے
کہکشاں کے ۔ ستاروں کے
چلو کچھ خواب بنتے ہیں
کہ ان خوابوں کی دنیا میں
کوئی دہشت نہیں ہو گی
کوئی نفرت نہیں ہو گی
حیات اک سوگ نہ ہو گی
حقیقت روگ نہ ہو گی
چلو کچھ خواب بنتے ہیں
اس البیلی سی دنیا کے
کہ جس دنیا کے نقشے پر
لہو کا داغ نہ ہو گا
امن کا راستہ ہو گا
محبت کا مروت کا
زمانہ سلسلہ ہو گا
چلو کچھ خواب بنتے ہیں
سہانے وقت کے جاناں
کہ جب مظلوم کے دل میں
بغاوت پھر بپا ہو گی
ارادے جاگ اٹھیں گے
لٹیرے بھاگ اٹھیں گے
چلو کچھ خواب بنتے ہیں
ہمیشہ ساتھ کے جاناں
چلو کچھ خواب بنتے ہیں
انہی لمحات کے جاناں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







