چلو اک بار دل سے دل بدل کر دیکھ لیتے ہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Manilaچلو اک بار دل سے دل بدل کر دیکھ لیتے ہیں
تمہارے پیار میں ہم بھی مچل کر دیکھ لیتے ہیں
یہ موسم ہے بہاروں کا بہت خوشبو ہوا میں ہے
چلو کچھ دیر گلشن میں ٹہل کر دیکھ لیتے ہیں
سنا ہے عشق کی منزل بڑی مشکل سے ملتی ہے
تو پھر ہم بھی تمہارے ساتھ چل کر دیکھ لیتے ہیں
اگر چے جھوٹ سے ہی نام ہوتا ہے زمانے میں
چلو کچھ دن اسی سانچے میں ڈھل کر دیکھ لیتے ہیں
یقیں خود پر اگر ہے تو بلندی پر پہنچے گے
اگر گر بھی گئے تو کیا سنبھل کر دیکھ لیتے ہیں
مقدر میں اگر ہجرت ہی لکھی ہے تو اے وشمہ
تو پھر ہم بھی کہیں باہر نکل کر دیکھ لیتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






