چاہا ہے عجب ڈھنگ سے چاہت بھی عجب ہے
Poet: بانو صایمہ By: مصدق رفیق, Karachiچاہا ہے عجب ڈھنگ سے چاہت بھی عجب ہے
محبوب عجب ہے یہ محبت بھی عجب ہے
پلو مرا تھاما ہے کئی بار خرد نے
پر ان دنوں جذبوں کی بغاوت بھی عجب ہے
جکڑا ہے تری یاد نے افکار کو میرے
ہمدم ترے جذبات میں شدت بھی عجب ہے
قربت کے حسیں پھول مری روح پہ وارے
کیا خوب سخی ہے یہ سخاوت بھی عجب ہے
اک عارض گل پر جما شبنم سا وہ قطرہ
کرنوں سے ذرا قبل رفاقت بھی عجب ہے
لہجہ ترا دہکا ہوا لگتا ہے غضب کا
غصے بھرے لہجے میں حرارت بھی عجب ہے
چہرہ ترا تپتا ہوا دکھتا ہے تپش سے
مستی بھرے نینوں میں شرارت بھی عجب ہے
بازی کبھی ہاری نہیں ظالم نے انا کی
چالیں بھی عجب اس کی سیاست بھی عجب ہے
خود قید وفا کاٹ کے دی اس کو رہائی
بانوؔ یہ ترے دل کی عدالت بھی عجب ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






