چار دن کی زندگی ہے، اس میں روٹھنا منانا کیا
Poet: Imran Nazeer By: Imran Nazeer, Rawalpindiچار دن کی زندگی ہے، اس میں روٹھنا منانا کیا
دور ہوں جو پہلے ہی، انکے گلے سے لگنا لگانا کیا
قربتوں کے اس حسیں دور میں الزام جو لگے تو
پھر ایسے میں اک دوسرے کو دیکھنا دکھانا کیا
یہ جو لکھ رہے ہو نام میرا تم ساحل سمندر پہ
لہروں کا تو کام ہے مٹانا، اس میں ڈرنا ڈرانا کیا
جب لکھا ہو قسمت میں عمر بھر ماتم ہی ماتم
تو پھر رتوں کا بدلنا، بہاروں کا ہنسنا ہنسانا کیا
باغ ہی جب اجڑ گیا ہو ہرا بھرا اک باغباں کا
اس چمن میں حسیں پھول کا کھلنا کھلانا کیا
بہاروں میں بھی نہ آئے جن درختوں پہ بہار
تو پھر ایسے اشجار کے نیچے بیٹھنا بٹھانا کیا
دب گیا ہے سر جو تیرے احساں کے بوجھ تلے
تو پھر اس کا عزت سے اٹھنا کیا، گرنا گرانا کیا
کانوں کے کچے ہوں جس شہر کے سبھی باسی
تو پھر افواہوں کا اس بستی میں اڑنا اڑانا کیا
گر خدا ہی نہ چاہے کرنا ممکن وصل ہمارا
تو پھر رشتوں کا تیرے میرے جڑنا جڑانا کیا
دلوں میں بسی ہوں اگر نفرتیں اور کدوتیں
تو پھر ایسے میں ہاتھوں کا ہمارے ملنا ملانا کیا
عمراؔن کو مانتے ہو قاتل تم اپنی ہر خوشی کا
تو پھر میت پہ اسکی آنسوئوں کا بہنا بہانا کیا
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






