پیار الفت میں ملاوٹ نہیں ہوگی ہم سے
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiپیار الفت میں ملاوٹ نہیں ہوگی ہم سے
ہوگا نقصان تجارت نہیں ہوگی ہم سے
کچھ بھی خالص نہیں ملتا ہے ملاوٹ ہر طرف
ایسے بے لوث محبت نہیں ہوگی ہم سے
جس کی بنیاد رکھی جھوٹ پہ ہی جائے وہ
ایسی ویسی تو سیاست نہیں ہوگی ہم سے
آپ نے کرنی ملاقات ہے کس نے روکا
ہم ملیں کوئی جسارت نہیں ہوگی ہم سے
چاہے جتنے بھی ستم آپ کرو گے ہم پر
کرتے ہیں پیار عداوت نہیں ہوگی ہم سے
ہم نہیں آپ کے نوکر رہے کچھ مت کہنا
آج کے بعد اطاعت نہیں ہوگی ہم سے
آبلے پاؤں میں ہیں زخم نہیں میرے بھرے
طے کروں کیسے مسافت نہیں ہوگی ہم سے
وقت گزرا ہی کہاں ساتھ ہمارا شہزاد
اس طرح یار رفاقت نہیں ہوگی ہم سے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






