پہلی بار جب میں نے تم کو
Poet: Muzammal Mukhtar Azam By: Muzammal Mukhtar Azam, Lahoreپہلی بار جب میں نے تم کو
اپنی پہلی غزل سنائی
تو وہ سن کر
تم نے مجھ سے یہ کہا تھا
“اس میں اتنی مایوسی کیوں ہے“
اور میں نے یہ اصرار کیا تھا
کہ
اس دم کچھ حالات ہی یوں تھے
یہ نہ لکھتا تو
اور کیا لکھتا
“پر اب تو سب کچھ ٹھیک ہے نا
تو اب اس پر بھی کچھ لکھدیں“
اور میں نے یہ پیمان کیا تھا
کہ
اب جبکہ حالات سہل ہیں
میں بھی سب کچھ “ٹھیک “لکھوں گا
پر دیکھ لو جاناں میرے سخن میں
پھر مایوسی رنگ لے آئی ہے
حسرت و یاس کا بے کل چشمہ
میرے قلم سے پھوٹ رہا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






