پھول خوشی کے ہر طرف
Poet: hira By: hira, gojraپھول خوشی کے ہر طرف کھلنے لگے ہیں
تجھے دیکھ کر ہی جینے لگے ہیں
مسکرا دیتے ہیں تنہائی میں بھی
بھیڑ میں تجھے ڈھونڈنے لگے ہیں
اب اندھیری راتوں سے ڈر نہیں لگتا
چاند کے اس پار تجھے کھوجنے لگے ئیں
قابومیں نہیں رہتی دھڑکن دل
ہوش و قرار اپنا کھونے لگے ہیں
چھوٹے سے بچے کی مانند دل کی ضد پہ
تجھ سے ملنے کو جزبات مچلنے لگے ہیں
پہلے تو بھاگتے تھے ساون سے
بارشوں میں اب خود کو بگھونے لگے ہیں
تجھ سے دوری کا سوچ کر ہم
بھٹکتی روح سا تڑپنے لگے ہیں
تجھے پا لیا تو شکرگزار ہو کر
اپنی قسمت پہ رشک کرنے لگے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






