پکارتی ہوں تمہی کو ہر دم سمیٹ لو مجھ کو میرے ساجن
Poet: Sara Afzal By: Sara Afzal, Pakistanتمہارے قدموں کی منتظر ہوں تمہی کو میں یاد کر رہی ہوں
تمہیں تو پرواہ کچھ نہیں ہے میں شام سے آہ بھر رہی ہوں
وفا کا جذبہ نہ ختم ہو گا یہ سلسلہ اب نہ تھم سکے گا
تمہاری الفت کے پھول لے کر یہ دیکھو پھر سے سنور رہی ہوں
ہر ایک لمحہ یہ سوچتی ہوں کہیں نہ کھو جاؤ تم جہاں میں
اے میرے ساتھی اے میرے ہمدم تمہارے کھونے سے ڈر رہی ہوں
ہجر نے سلگا دیا ہے تن من عجیب حالت ہے آج میری
الاؤ یادوں کا جل رہا ہے نہ جی رہی ہوں نہ مر رہی ہوں
پکارتی ہوں تمہی کو ہر دم سمیٹ لو مجھ کو میرے ساجن
یہ آندھیاں ہیں محبتوں کی میں تنکا تنکا بکھر رہی ہوں
یہ مانتی ہوں یہ جانتی ہوں ندی ہے منہ زور چاہتوں کی
مگر ہوں مجبور دل کے ہاتھوں میں اس میں سارہ اتر رہی ہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







