پچھلے پہر کی رات ڈارتی رہی مجھے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Karachiپچھلے پہر کی رات ڈراتی رہی مجھے
اک اجنبی کی یاد ستاتی رہی مجھے
سوئی ہوئی تھی میں تو حسیں گل کی گود میں
تتلی تمہارے شعر سناتی رہی مجھے
اب تک وہ تیرے پیار کی لزت نہیں گئی
ہر وقت سینے سے جو لگاتی رہی مجھے
دیکھا تو اس کی آنکھ میں تصویر تھی مری
جو زندگی کے خواب دکھاتی رہی مجھے
ہر دم میں تیرے عشق میں شعلہ بنی رہی
ہجرت میں تیری یاد جلاتی رہی مجھے
وشمہ میں ساتھ ساتھ تھی فصلِ بہار کے
خوشبو کلی کلی یہ سجاتی رہی مجھے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






