پاؤں میں ہے حالات کی زنجیر پرانی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Karachiپاؤں میں ہے حالات کی زنجیر پرانی
آنکھوں میں لیے پھرتی ہوں تصویر پرانی
ہر لفظ میں پنہاں ہے ترے پیار کا قصہ
دیکھی ہے ترے ہاتھ کی تحریر پرانی
ملتی ہے مجھے روز سزا اپنی انا کی
ویسے تو محبت میں ہے تقصیر پرانی
اب تک ہے ترے لمس کا احساس مری جاں
ہوتی ہے کہاں وصل کی تاثیر پرانی
یہ شام ترے ہجر کی یہ شوق کا عالم
یہ میری جوانی کی ہے جاگیر پرانی
دشمن کے مقابل میں کھڑی ہوتی ہوں وشمہ
ہاتھوں میں لئے عہد کی شمشیر پرانی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






