وہ کس کو ڈھونڈنے آیا تھا اس ادارے میں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلاوہ کس کو ڈھونڈنے آیا تھا اس ادارے میں
جو میرا نام ہی پڑھتا رہا شمارے میں
وہ میری آنکھ کے ٹھہرا رہا اشارے میں
ہوا جو پیار کی بھرتا نہیں نطارے میں
پھر اس کا ساتھ مری زندگی کا کرب بنا
نمازِ عشق میں پڑھتی رہی خسارے میں
وہ میرا چاند ہے مجھ کو وہ لینے آئے گا
میں بن کے حور جو بیٹھی رہی ستارے میں
وہ بیچنا، وہ شرارت، وہ چاہتیں،وہ امنگ
سمائیں کشتیاں ساری سمے کے دھارے میں
ابھی تو درد کی موجوں میں غرق ہوں وشمہ
کبھی تو ہجر کی کشتی لگے کنارے میں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






