وہ مجھے آزماتا رھا
Poet: Aik banda By: aik banda, londonوہ مجھے آزماتا رھا
میں اسے شرماتا رھا
پھر یوں ھی ماہ و سال گزرتے رھے
بظاہر ھم اجنبی رھے
حقیقت میں ھم اک دوسرے میں رھے
عجیب رشتہ اسطوار ھوا
نہ اس سے اقرار ھوا
نہ مجھ سے انکار ھوا
یہ آج تک مجھ پر نہ آشکار ھوا
کہ بے سبب ھی میں نے اسے پیار کیا
یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ مجھے سوچتا نہ ھو
کیوں کہ جسم پر اختیار ھے
پر روح پر اختیار نہیں
بس فقط میرا اک کام کر دینا
جب کبھی میری یاد ستائے
توصرف مسکرادینا
کہ مسکراہٹ دکھوں کو چھپالیتی ھے
تمہیں اپنا خیال رکھناھے میرے لیے
کہ تمھاری زندگی ہی تو میری زنندگی ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






