وہ دورِ ناشناس میں دستِ دعا بھی ہو
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاوہ دورِ ناشناس میں دستِ دعا بھی ہو
یوں زندگی میں پیار کا اک حق ادا بھی ہو
کھیلا ہے کھیل اس نے جو میری وفاؤں سے
اس کھیل میں جفاؤں کی اب انتہا بھی ہو
گرتے رہے جدائی میں جو اس زمین پر
ان آنسوؤں کے درد کی قیمت ادا بھی ہو
جس زندگی میں جاؤں میں قربان آپ پر
اس زندگی میں آپ کی شامل وفا بھی ہو
چاہت کے گلستان میں کلیوں سے ہو لگن
مہرو وفا ہو، پیار ہو، جب دل رہا بھی ہو
غنچے نہیں نصیب میں یہ ریگِ دشت ہے
اے زندگی کی پیاس تو مجھ سے جدا بھی ہو
کیسے کٹے گی ایسے میں پیڑوں کی زندگی
گلشن میں یرغمال یوں جب یہ ہوا بھی ہو
اس بے وفا کے پیار کو وشمہ میں کیا کہوں
جو میرے ساتھ ساتھ ہو مجھ سے خفا بھی ہو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






