وہ جاتے جاتے زندگی سنسان کر گیا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلاوہ جاتے جاتے زندگی سنسان کر گیا
گلشن سے آنکھ پھیر کے ویران کر گیا
شام و سحر کی آج کہاں ہے خبر مجھے
وہ مجھ کو حسرتوں کا ہے زندان کر گیا
بیٹھی ہوں میں اداس سی اپنے ہی درمیاں
کیسے غمِ حیات کا عنوان کر گیا
رنگیں رتوں میں آپ کا ملنا وہ پہلی بار
آنکھوں کی سر زمین کو بے جان کر گیا
الفت کے جرم میں جو رہا ہے مرا شریک
کیوں درد کی سزاؤں کا اعلان کر گیا
چھوڑا نہیں نصیب میں کچھ یاد کے سوا
ہر حال میں وہ میرا ہی نقصان کر گیا
وشمہ تجھے جو پیار کی محفل نہ مل سکی
دنیا میں کیا یہ آج کا انسان کر گیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






