وہ اکثر یاد آتا ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, نیو یارکوہ اکثر یاد آتا ہے
بہت ہی یاد اتا ہے
کھبی جھونکا ہوا کا بن کے اکثر یاد اتا ہے
یہی جھونکا مجھے تنہائیوں میں گد گداتا ہے
کھبی خوشبو بنے اورنکہتِ بادِ بہاری کی طرح
ساری فضاؤں کو وہ مہکاتے ہوئے
مجھکو مچلنے کا بہانا دے کے جاتا ہے
میں اس کی یاد کو جب سوچتی ہوں
ایسے لگتا ہے کہ جیسے وہ بہت نزدیک ہے مرے
بہت ہی پاس ہے مرے
کہ جیسے چاند بن کر مسکراتا ہے
کھبی جب رات کے پچھلے پہر
مرے مقدر کے ا ندھیروں کو
عطا کرتا ہے ایسی چاندنی
میرا نصیب جاگ جاتاہے
ایسی کہ رہ رہ کر وہ مجھکو یاد آتا ہے
وہ اکثر یاد آتا ہے بہت یاد آتا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






