وقت دی چادر گندی کیتی (پنجابی)
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaتریاں وسدیاں بستیاں نُوں رب
رکھے سدا سلامت میرے یارا
دین دعاواں ویکھ ویکھ کے
ہٹھاں نوں چُک میرے ویرانے
وقت دی چادر گندی کیتی
آدم تریاں ایناں نسلاں نے
اپنیاں کیتیاں ویکھدے نہیں
اُلٹا کہن برے آئے زمانے
حیلے قسماں توں نہ کھاوی
حیلے کری نہ کوئی وعدہ
وقت آؤن تے آپے جانوں
کون بہتے نے کدے دیوانے
کِناں پلائی ہمدردی دی مہ
کِناں زہر نفرت دا ملایا سی
اَکھاں کھلدیاں ہولی ہولی نہال
جدوں خالی ہون فیر پیمانے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






