وعدے وفا کے اور قرینے جفا کے یوں
Poet: Hazrat Allama Pir Syed Naseer-ud-Din Naseer Gillani (Golra Sharif) By: Khalid Roomi, Rawalpindi وعدے وفا کے اور قرینے جفا کے یوں
کیوں کر بدل گئے وہ نگاہیں ملا کے یوں
پہلو میں اب پلٹ کے نہ آئے گا دل مرا
انداز لے اڑے ہیں کسی دلربا کے یوں
مطلب یہ ہے کہ اور بھی حیراں ہو چشم شوق
پردے میں چھپ گیا ہے کوئی مسکرا کے یوں
گیسوئے یار چھو کے گلستاں میں آئی ہے
مہکے ہوئے نہ تھے کبھی جھونکے صبا کے یوں
جیسے کہ میں غریب ، کوئی آدمی نہیں
احباب دور دور ہیں دامن بچا کے یوں
ہم کو بلایا، پاس بٹھایا ، اٹھا دیا
رسوا کیا ہے آپ نے گھر پر بلا کے یوں
ہو گا نہ اب قرار میسر کبھی مجھے
اک بات کہہ گئے ہیں وہ آنکھیں ملا کے یوں
دیکھیں گے اب نصیر قیامت کے روز ہم
جاتے ہیں کس طرف کو وہ دامن بچا کے یوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






