نہ سوچو کسی کا برا دوستو
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiنہ سوچو کسی کا برا دوستو
سبھی کا کرو تم بھلا دوستو
کرو دشمنی ختم وعدہ کرو
یہی ہے مری التجا دوستو
وفائیں کرو پیار الفت سے تم
کسی سے کرو مت دغا دوستو
خلوصِ محبت کرو عام تم
کرو ختم دل سے جفا دوستو
گناہوں سے سب کو بچائے خدا
یہی رب سے مانگو دعا دوستو
کریں گے سبھی کام نیکی کے ہم
نہ کوئی ہو ہم سے خطا دوستو
مرے اپنوں کی سازشیں ساتھ تھی
مکاں میرا ایسے گرا دوستو
دسمبر گیا جنوری ہے شروع
نیا سال پھر آ گیا دوستو
ستم ہوئے شہزاد نے یوں کہا
مرا کچھ نہیں ہے بچا دوستو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






