نہ جھانکو آج دریچوں سے دروازہ کھلا ہے آجاؤ
Poet: شاکر شجاع آبادی By: اویس نون, Multanنہ جھانکو آج دریچوں سے دروازہ کھلا ہے آجاؤ
کبھی استقبال جو کرتا تھا بیمار پڑا ہے آجاؤ
ماتھے پہ پسینہ یادوں کا دل میں ہے بلا کی بے چینی
دیدار کی حسرت آنکھوں میں ہونٹوں پہ دعا ہے آجاؤ
ہاتھوں کی لکیریں نظروں کو کچھ بدلی بدلی لگتی ہیں
کچھ راستہ برج ستاروں کا تبدیل ہوا ہے آجاؤ
ہاں تم نے کہا تھا جب جانا کوئی چیز نشانی لے جانا
ساحل پہ سفینہ سانسوں کا تیار کھڑا ہے آجاؤ
کافر ہے جو آپ کے وعدے پر شاکر نہ یقین کرے لیکن
احساس کے ہاں امیدوں کا دم ٹوٹ رہا ہے آجاؤ
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






