نہیں رہنا کبھی تنہا
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiنہیں رہنا کبھی تنہا رفاقت آشنا کرنا
حققیت آشنا کرنا صداقت آشنا کرنا
نہیں جو جانتے تم کو بتادو سچ حقیقت تم
کبھی تم بولنا مت جھوٹ فطرت آشنا کرنا
نہیں ہے بے وفا وہ ہوئی ہے کوئی غلط فہمی
اکیلے بیٹھ کر ان سے محبت آشنا کرنا
تعلق ختم ہو جائے گا نکلو گے رفاقت سے
شرافت بھول جائیں گے جسارت آشنا کرنا
سمجھتے ہیں جو کم تر ہی تجھےشہرت ملے گی تب
نہیں جو جانتے تم کو ذہانت آشنا کرنا
نہیں بدلا ہوں میں تیرا ہوں تیرا ہی رہوں گا میں
یقیں آئے گا پھر اس کو شکایت آشنا کرنا
مرے پاؤں میں آبلے ہیں سفر دشوار تھا کرنا
جو طے شہزاد کی ہے وہ مسافت آشنا کرنا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






