نہنگِ یاد سے ، یہ دل ستیزہ کار رہا
Poet: عنایت الرحمان By: عنایت الرحمان, ایبٹ آبادنہنگِ یاد سے ، یہ دل ستیزہ کار رہا
جو بحرِ غم میں رہا محرومِ رستگار رہا
اگرچہ دعویٰ نہیں ہم کو تیری چاہت کا
مگر یہ دل ، کہ سدا تیرا پرستار رہا
تمہیں بھی شوق نہ تھا درد و غم کے قصوِں کا
بیانِ حالتِ دل ، اپنے بھی جی پہ بار رہا
ہمیں تو عشق کی بے چینیاں رُلاتی رہیں
تمہارے دل پہ ، تمہیں کتنا اختیار رہا
محبتوں میں الگ سے ہیں سارے رِیت و رواج
اُسی نے دھوکہ دیا ، جس پہ اعتبار رہا
تمام عمر ، اُسی ایک شخص کی خواہش
تمام عمر ، خسارے کا کاروبار رہا
جمالِ دوست کا اعجاز ہے اُجاڑ سا گھر
بس ایک جلوے سے، اِک عمر مُشکبار رہا
تُمہارے عہد کا یہ المیہ ہے چارہ گرو
کہ حق پرستی کا انجام رسن و دار رہا
تمہیں تو خیر یہ احساس بھی نہیں ہو گا
کسی کو وقتِ نزع ، کس کا انتظار رہا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






