نفرتوں میں یا محبتوں میں کلام آئے
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaنفرتوں یا محبتوں میں کلام آئے
ترے لبوں پے مگر میرا نام آئے
کومل ہاتھوں میں ہو گلاس تو پی جائوں ہنس کے
چاہے میرے لئے وہ زہریلا جام آئے
جھوم اُٹھوں خوشی میں ناچوں گاہوں میں
میرے لئے ترا جو کوئی پیغام آئے
اگر خدا دے مجھے جنم دوبارہ اِس جہاں میں
دل چاہے کہ ترا بن کے غلام آئے
تری محبت میں فقط محبت کی ہی خواہش نہیں
غنیمت سمجھو جو ترا کوئی الزام آئے
گھر کی دیواروں پے سجا لُویوں اُسے شوق سے
کانٹا بھی اگر کوئی تحفہِ سلام آئے
تُم رہو میری باہوں میں کسی روز جاناں!
پھر نہ کوئی دن کوئی شام آئے
جان کی قیمت دے کے لے لوئوں تجھے جہاں سے
سانسوں کا تجھ پے جو دام آئے
تُم آئو تو چین آئے دلِ بے تاب کو
تُم آئو تو جاناں! آرام آئے
نہال کے گھر آئو تُم دلہن بن کے کسی روز
دعا ہے جلد وہ ایام آئے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






