نغمہ کوئی ابھرتا ہے پیڑوں کی چھاؤں سے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Karachiنغمہ کوئی ابھرتا ہے پیڑوں کی چھاؤں سے
کرتے ہیں جب بھی بات پرندے ہواؤں سے
ویسے تو سخت جان تھے بستی کے سارے لوگ
مائل کیا ہے اس نے بھی اپنی اداؤں سے
دشمن کو اب میں اپنی جلو میں چلاؤں گی
دھوکے تو کھا لیے ہیں بہت ہم نواؤں سے
میرا یہ مشغلہ ہے جوانی کی راہ میں
ملتی ہوں میں تپاک سے اب بےوفاؤں سے
نکلی تو ہوں میں دشت کی جانب بہ وقتِ شام
محفوظ رب کی ذات رکھے گی بلاؤں سے
میرے وطن میں خوف کا پہرہ ہے آج کل
مشکل یہ ٹل ہی جائے گی وشمہ دعاؤں سے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






