نثار تم بھی محبت نگر گئے ہوتے
Poet: hussain nisar By: hussain nisar, karachiنثار تم بھی محبت نگر گئے ہوتے
تو اپنا حال پریشان کر گئے ہوتے
تو اپنا صحنِ چمن خوشبووں سے بس جاتا
اگر یہ درد کے دریا اتر گئے ہوتے
فقط یہ آس ہی اب ذندگی کا حصہ ہے
تمہارے قرب میں رہ کر سنور گئے ہوتے
تم آئے ہو تو دلاسا ملا ھے سانسوں کو
وگرنہ ہم تو کبھی کے گزر گئے ہوتے
تو سر زمینِ قمر بھی اداس کر جاتی
اگر یہ لوگ تجھے دیکھ کر گئے ہوتے
نہ چھیڑ رندِ بلا نوش کو تو اے ناصح
یہ اپنے ہوش میں ہوتے تو گھر گئے ہوتے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






