میں یہ سوچُوں تو مِرے ہوش نِکَل جاتے ہیں
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiمیں یہ سوچُوں تو مِرے ہوش نِکَل جاتے ہیں
جانے کیوں لوگ یہ پَل بَھر میں بَدَل جاتے ہیں
ہے دیا مُجھکو یہی ڈُوبتی ناؤ نے سَبَق
عَزم پُختہ ہوں تو طُوفان بھی ٹَل جاتے ہیں
ایسا کیا ہے تیری لَو میں مُجھے شمع تُو بَتا
سوچے سَمجھے بِنا پَروانے جو جَل جاتے ہیں
میرے اَشعار میں جب بھی تیرا نام آ جاۓ
جانے کیوں پِھر میرے اَلفاظ مَچَل جاتے ہیں
میں بَھلا کیسے تِرے ہِجر میں مَر سکتا ہوں
بَند پِنجرے میں پرندے بھی تو پَل جاتے ہیں
جب تِرا اِسم مُبارک کِسی لَب پَر آۓ
گِرتے گِرتے تِرے دِیوانے سنبَھل جاتے ہیں
ہمیں باقرؔ کِسی شَۓ کا بھی نہیں ہے لالَچ
بس تِرا ذِکر جو ہو جاۓ بہل جاتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






