میں ہوں جیسا بھی مرے ساتھ گزارہ کرنا
Poet: AB shahzad By: AB shahzad, Mailsiمیں ہوں جیسا بھی مرے ساتھ گزارہ کرنا
میرے ماں باپ کو تو بس نہ ستایا کرنا
بڑے نازوں سے انہوں نے تجھے پالا ہے سنو
روٹھ جائیں بھی اگر ہنس کے منایا کرنا
جب کسی چیز کی مرے یار طلب ہو تم کو
کرتا بے لوث محبت ہوں اشارہ کرنا
مت کہوں موم مجھے اتنی رعونت نہیں ہے
جتنا ممکن ہو سکے مجھ سے کنارہ کرنا
یاد آئیں گے بہت ایک نہ اک دن تم کو
اپنے ماں باپ کو سینے سے لگایا کرنا
جب بلاؤں میں چلے دوڑ کے ہی آنا تم
اب کبھی کوئی نہ تم یار بہانہ کرنا
بھولا شہزاد نہیں لمس ترے چھونا وہ
یاد ہے پھول وہ زلفوں میں سجایا کرنا
اےبی شہزاد میلسی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






