میں کیسے اُس سے کہوں تم سے پیار کرتی ہوں
Poet: Khan Muhammad Imran - Emron Mano By: Muhammad Imran Khan, Peshawarمیں کیسے اُس سے کہوں تم سے پیار کرتی ہوں
زمانہ بھر کی اِن رُسوائیوں سے ڈرتی ہوں
مُجھے پیارا ہے وہ سارے جہان سے لیکن
مُجھے خبر ہے وہ انجان مُجھ سے ہے لیکن
میں دل و جان سے اُس بے خبر پہ مرتی ہوں
میں کیسے اُس سے کہوں تم سے پیار کرتی ہوں
میرے محبوب میرے ناخُدا اِک نظرِ کرم
نہ کر مُجھ پہ میرے دل پہ تُو اتنا ستم
زمانہ کچھ بھی کہے دم میں تیرا بھرتی ہوں
میں کیسے اُس سے کہوں تم سے پیار کرتی ہوں
نجانے کیسے کب اُس کو یہ خبر ہوگی
دیوانی اُس کی بھی اُس کے ہی شہر میں ہوگی
اب کے کہدونگی میں تم سے پیار کرتی ہوں
زمانہ بھر کی اِن رُسوائیوں سے ڈرتی ہوں
کیا خبر وہ بھی کسی اور کا دیوانہ ہو
وہ بھی میری طرح شمع کا پروانہ ہو
کتنی نادان ہوں میں قسمتوں سے لڑتی ہوں
میں کیسے اُس سے کہوں تم سے پیار کرتی ہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






