میں چھوڑ کے دنیا کو اسے آئی تھی اپنانے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلامیں چھوڑ کے دنیا کو اسے آئی تھی اپنانے
کیوں روٹھا ہے مجھ سے وہ اس بار خدا جانے
میں عمر کی سرحد سے آگے ہوں نکل آئی
اب میرے مقدر میں نہیں ہیں وہ پری خانے
پیتی تو نہیں ہوں میں تجھے پھر بھی یہ بتلا دوں
یہ آج بھی بھاتے ہیں تری آنکھ کے میخانے
شب پچھلے پہر جب میں جلتی ہوں دیا بن کر
آ جاتے ہیں چپکے سے تری یاد کے پروانے
مجھ سے تو دغا کر کے ہر دل سے مٹا ڈالا
مشہور ہیں دنیا میں ترے عشق کے افسانے
اس میری زمیں پہ اب یہی درد کہانی ہے
کچھ قصے ہیں ماضی کے ، کچھ لوگ بھی بیگانے
اک روز تو لوٹیں گے وشمہ تری گلیوں میں
آئیں گے قسم سے ہم ترے پیار کو لے جانے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






