میں تو گھر میں رہتی ہوں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیامیں اپنے گھر مین رہتی ہون ،پتہ کچھ بھی نہیں مجھ کو
خبر کچھ بھی نہیں، باہر کا موسم کیسا لگتا ہے
مجھے کیا پوچھتے ہو،گھر کے باہر کیسا موسم ہے
پتہ مجھ کو نہیں باہر کا موسم کیسا ہوتا ہے
مین اپنے گھر مین رہتی ہوں،پتہ کچھ بھی نہیں مجھ کو
خبر کچھ بھی نہیں ،باہر کا موسم کیسا ہلگتا ہے
گلوں کا رنگ کیا ہے،اور پرندے کیسے آڑتے ہیں
میں اپنے گھر مین رہتی ہوں،پتہ کچھ بھی نہیں مجھ کو
پتہ مجھ کو نہیں کہ لوگ کیسے جیتے بستے ہیں
کبھی دیکھا بھی ہے مجھ کو کسی کے سنگ رہتی ہوں
کسی سے ملتی جلتی ہوں
مجھے کیا ہو خبر کہ لوگ کیسے زندگی اپنی بتاتے ہیں
مجھے کیا پوچھتے ہو میں کہاں پر ہوں
گلی وہ کونسی ہے جس مین میرا گھر ہے مسکن ہے
پتہ مجھ کو کیا پوچھتے ہو مین کہاں پر ہوںم
مرے گھر کا پتہ کیا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






