میں اک انجان آوارہ پنچھی
Poet: Muzammal Mukhtar Azam By: Muzammal Mukhtar Azam, Lahoreمیں اک انجان آوارہ پنچھی
دل پر سوز ہونٹوں پر ہنسی
دیر سے اک منڈیر پہ بیٹھا
گئے دنوں کا سوچ رہا ہوں
کیا کھویا کیا پایا میں نے
کیوں دل کا چین گنوایامیں نے
کیا عشق کرنا لازم تھا مجھ پر
کیوں پیار کا خود چڑھایا خود پر
کچھ رشتے ناطے توڑ دئیے
کچھ پیار کی خاطر چھوڑ دئیے
جو خواب ادھورے پورے تھے
اشکوں کی صورت دور کیے
پر کیا منفعت کیا حاصل ہے
وہ مجھ سے کتنا غافل ہے
ہم جس کی خاطر سودائی
وہ آج بھی کتنا عاقل ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






