میرے ہاتھوں کی لکیروں کو بنانے والے
Poet: Khalid Mahmood By: Khalid Mahmood, Abha_Saudi Arabiaمیرے ہاتھوں کی لکیروں کو بنانے والے
ان لکیروں پہ مقدر کو چلانے والے
کیا ضروری تھا مقدر میں میرے غم لکھنا
ساتھ پھولوں کے کانٹوں کو لگانے والے
اب تو عادت سی بنا لی ہے ہم نے اپنی
تم ہو روٹھنے والے ، ہم منانے والے
کاش تم نے بھی کبھی ہم کو پکارا ہوتا
ہم تیرا نام ہونٹوں پہ سجانے والے
پھول چنتے ہیں سبھی کانٹے کوئی چنتا نہیں
ہم ہیں کانٹوں کو پلکوں سے اٹھانے والے
ان کے دل میں بھی کبھی درد تو ہوتا ہو گا
وہ جو ہوتے ہیں اوروں کو ہنسانے والے
تم چاہو بھی تو ہم کو نہ بھلا پا ؤ گے
ہم شناساؤں میں تیرے ہیں پرانے والے
چھوڑ دی محفل دنیا بھی اے خالد ہم نے
پھر بھی خوش ہوتے نہیں یہ زمانے والے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






