میرے چہرے پر سجا کرتے ہو تم
Poet: نذیر اے قمر By: نذیر اے قمر, madridمیرے چہرے پر سجا کرتے ہو تم
میری آنکھوں میں رہا کرتے ہو تم
خوشبوؤں سے آپ کی بنتی نہیں
تتلیوں سے بھی گلہ کرتے ہو تم
وہ تو نکلا ہے خلا سے کھیلنے
جس کی حسرت میں جیا کرتے ہو تم
مجھ کو لفظوں کا ہنر کر کے عطا
میرے شعروں میں رہا کرتے ہو تم
زندگی کے خواب تو بنتا ہوں میں
زندگی کو خوشنما کرتے ہو تم
زندگی کی داستاں پہنے ہوئے
زندگی سے حادثہ کرتے ہو تم
چاند کو چھونے کی ضد میں اے قمر
آرزو کی انتہا کرتے ہو تم
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






