میرے دل سے تو کبھی ایسی حماقت نہ ہوئی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Karachiمیرے دل سے تو کبھی ایسی حماقت نہ ہوئی
آپ کے بعد کسی سے بھی محبت نہ ہوئی
آپ نے لاکھ ستم مجھ پہ کئے ہیں پھر بھی
میرے ہونٹوں پہ کبھی کوئی شکایت نہ ہوئی
آپکی یاد میں جیسے ہوئی حالت میری
اس سے پہلے کبھی ایسی مری حالت نہ ہوئی
شوقِ دیدار میں آنکھیں بھی ہوئی ہیں پتھر
اپنی خواہش کی کبھی دیکھو زیارت نہ ہوئی
اس پہ واری ہے شب و روز جوانی اپنی
پر محبت یہ کبھی اپنی ریاست نہ ہوئی
اس کی سنگت میں رہی وشمہ تماشا بن کر
اپنے بیمار کی پھر بھی تو عیادت نہ ہوئی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






