میرے خط
Poet: مونا شہزاد By: Mona Shehzad, Calgaryکچھ خط ہیں لکهےتیرے نام پیا
پرو کر بھیجے ہیں ان میں خواب پیا
ہیں ان میں ہزاروں رنگوں کے جہاں آباد
تو ان سے ہی ہولی کهیل میرے پیا
ہیں کچھ خواہشوں کے آزاد منش پرندے
ہیں ارمانوں کی وادیاں اور گھاٹیاں
ہیں کچھ ملنے اور بچھڑنے کے قصے
کچھ ہیں میرے سوکھے ہوئے اشک پیا
بس سب ہیں امانتیں تیری نذر
اب بھی نہ ہو تجھ کو میری قدر
یہ خط نہیں میرا جیا ہے پیا
ان کو ہنس کر پروا میں نہ اڑانا میرے پیا
کچھ خط ہیں لکهےتیرے نام پیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






