میری نظر کے سامنے اجڑا ہے میرا گھر
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: توقیر اعجاز دیپک, جھنگمیری نظر کے سامنے اجڑا ہے میرا گھر
ٹوٹے ہوئے مکان کی مجھ کو نہیں خبر
ہم تو لٹے تھے قافلے کے پاسبان سے
دل میں چھپا ہوا تھا یونہی گھاتیوں کا ڈر
مدت سے میرے لب پہ ترا نام تو نہیں
پر دل کی دھڑکنوں پہ ہے اب بھی وہی اثر
جانے وہ شخص کون سے دیسوں میں کھو گیا
دل ڈھونڈتا ہی رہتا ہے جس کو اِدھر اُدَھر
چاہے مرے شریر نے تجھ کو نہیں چھوا
تیرے دل و دماغ پہ ہے تو مرا اثر
دیوار بن کے آتے رہے لوگ سامنے
افسوس کوئی نہیں بنا رستے میں آ کے در
دیپک یہاں پہ کوئی نہیں درد آشنا
روئے گا کس کے شانوں پہ تو رکھ کے اپنا سر
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






