میری زندگی سے مُتاثر لوگ
Poet: Majassaf Imran By: Majassaf Imran, Gujratمیری زندگی سے مُتاثر لوگ
کہتے ہیں میرا خیال اچھا ہے
میری شاعری سے مُتاثر لوگ
کہتے ہیں تیرے لفظوں میں کمال اچھا ہے
میری چار دیواری ہے مجھ سے مُتنفر کیوں ؟؟
کہتی ہے تجھ پہ کمبحت زوال اچھا ہے
میری سوچ میرا کردار ہیں گواہ اس کے
اُٹھتا ہے دل میں جو تیرے لیے وہ وبال اچھاہے
اب نہیں تو پھر سَہی تیرا غرور ٹوٹے گا نفیس
لا مُکاں ہے میرا خُدا اُس کا انصاف اچھا ہے
رغوں میں خون کی ماند ہو رواں دواں تم
چلو چھوڑو یہ ٹوٹا یہ بھکرا میرا حال اچھا ہے
دُنیا سے کیا مطلب جب شریکِ سفر تم نہیں
اب قصہِ ذندگی ہے بے کار مجھ پہ میرا زوال اچھا ہے
چھوڑتا ہوں عِشق مگر دلِ نادان ہے مُنکر اس سے
سوچتا ہوں نکال پھنک دوں اسے شاہد کہ میرا خیال اچھا ہے
اب ججتی نہیں مجھے بات عشق و محبت کی
مگر وقت گزاری ک لیے محبت کا رواج اچھا ہے
سنو ! میرے رَقیبو میں نہیں میرا ضمیر ہے مُردہ
ذرا بھر بھی محبت نہیں اُسے پھر بھی میرے لئے وہ نفیس اچھا ہے !!!
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






