اگر ترکِ تعلق میں یہ دنیا چھوڑ دی وشمہ
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاسلگتی شاخ سے خوشبو کو مہکانا نہیں اچھا
اگر خود بھی تڑپتے ہو تو تڑپانا نہیں اچھا
یہاں پستہ قدوں کی بھیڑ ہے لیکن ذرا ٹھہرو
قدو قامت کا نظروں میں یہ پیمانہ نہیں اچھا
خوشی کا ایک لمحہ بھی کئی صدیوں پہ بھاری ہے
مگر تیرا یہاں سے روٹھ کر جانا نہیں اچھا
سروں پہ دھوپ رہتی ہے مگر سایہ ہی دیتے ہیں
یہاں اشجار کی راہوں میں ویرانہ نہیں اچھا
فسردہ شہر میں ہر آدمی خوفِ وبا میں ہے
کسی کی بے بسی پہ اتنا مسکانا نہیں اچھا
یقیں کی حد میں رہ کر ہی خدا کے آدمی ہیں ہم
زمیں کے عشق میں جنت کو ٹھکرانا نہیں اچھا
نگاہوں میں اداسی ہے لبوں پہ گہری خاموشی
سکوتِ ذات کو اتنا بھی تڑپانا نہیں اچھا
چلے جانے پہ اس کے رو رہی ہوں آج لاحاصل
غموں کو دل کی وادی میں یوں ٹھہرانا نہیں اچھا
اگر ترکِ تعلق میں یہ دنیا چھوڑ دی وشمہ
محبت کے نگر پھر سے پلٹ آنا نہیں اچھا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






