میری آنکھوں کو وہ کاجل نہیں ہونے دیتے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاتیرے جلوے ہےمسلسل نہیں ہونے دیتے
روح بیتاب ہے بے کل نہیں ہونے دیتے
گفتگو جادو ادا جادو نظر جادو گر
کاش مجھ پر بھی ہو یہ حل نہیں ہونے دیتے
توجو آئے تو بنا برکھا بنے قوسِ قزع
اور اٹھے سوکھے یہ بادل نہیں ہونے دیتے
رنج و غم درد و الم یاد نہیں رہتے پھر
یہ حقیقت ہے وہ جل تھل نہیں ہونے دیتے
ناچنے سے ترے افلاک میں گونجی جھنکار
بس یہ لازم ہے مکمل نہیں ہونے دیتے
تو جو آیا چلی باد صبا نکھرے رنگ
کر گیاجادو مقفل نہیں ہونے دیتے
کتنے طوفانِ بلا خیز ہیں جھیلے ہوئے ہم
اس کو اپنے لیے پاگل نہیں ہونے دیتے
مجھ کو تاریک جہاں میں بھی نظر آئیں رنگ
خوش گمانی اسےاجمل نہیں ہونے دیتے
خون کے آنسو کئی سال یہ دل رویا ہے
شاعری میری مکمل نہیں ہونے دیتے
اس کو دیکھوں تو حسیں لگتی ہے وہ بھی وشمہ
میری آنکھوں کو وہ کاجل نہیں ہونے دیتے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






