میرا نہیں رہا تو تمہارا نہیں رہا
Poet: محمود حسین عاکف By: محمود حسین عاکف , Lahoreمیرا نہیں رہا تو تمہارا نہیں رہا
اس شہر میں بھی کوئی ہمارا نہیں رہا
کمرے میں چند ایک کتابیں ہی رہ گئیں
دل کو جہان بھر کا سہارا نہیں رہا
برسوں کسی کی یاد منائی گئی مگر
اب ذکر تک بھی اس کا گوارہ نہیں رہا
اک عمر آنکھ رکھتی رہی دید کی امید
آنکھوں کا پھر وہ راج دلارا نہیں رہا
دکھ یہ نہیں ہماری وہ نظروں سے گر گیا
غم یہ بھی ہے وہ یار ہمارا نہیں رہا
عاکف محبتوں کے خسارے پہ بحث تھی
ہم ہنس دیے کہ ہم کو خسارہ نہیں رہا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






