مِلا جو کچھ بھی نہیں میری ذات میں تجھ کو
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلامِلا جو کچھ بھی نہیں میری ذات میں تجھ کو
صلہ ملا تِرے حربوں کی مات میں تجھ کو
سمجھ بھی پاتا تُو دشمن کی چال کو کیسے؟
ہَرا گیا ہے وہ شخص گھات میں تجھ کو
ٹھہر گئے ہیں یہ بڑھتے قدم کہاں آ کر
مِلا ہے کون یہ آ کر حیات میں تجھ کو
جیوں گی لے کے تِرا نام یہ رہا وعدہ
میں وعدہ یاد دلاؤں گی ساتھ میں تجھ کو
کبھی جو ہو کے پیشماں تُو ملنے آ جائے
دِکھا دوں اپنی وفائیں بھی رات میں تجھ کو
سماج میں ہیں وہی نفرتیں، وہی تلخی
سکوں ملے گا نہیں شش جہات میں میں تجھ کو
سجن کی ایک جھلک دیکھنے چلی وشمہ
خوشی ملے گی بہت اپنی ذات میں تجھ کو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






