ملاقات
Poet: hira By: hira, gojraاک کرم خاص کا وعدہ ہے ان کا آج
جو ادھوری رہ گئی تھی وہ ملاقات ہے آج
تاروں نے آنگن میں اجالا سا کر دیا ہے
چاندنی بھی نئی لے پہ گنگنا رہی ہے آج
چہرے پہ میرے قوس قزح ہے چھائی ہوئی
پڑھ نہ لیں کہیں رقم داستاں وہ آج
پھول کلیاں تتلی سرگوشیاں کر رہے ہیں
جھوم کر رقص کر رہی ہیں دھڑکنیں بھی آج
آئنے کے سامنے کھڑا دیکھ رہا ہوں
فخر و غرور سے محبت نے کیا سنگار آج
تقدیر مہرباں سی لگ رہی ہے مجھ پہ
جل رہا ہے یہ زمانہ بھی دیکھو آج
انتظار یہ طویل تر ہوئے جا رہا ہے
کٹتی نہیں ہیں یہ گھڑیاں بے قرار آج
یوں لگتا ہے دستک ہو رہی ہے بار بار
اپنی ہی چاپ پہ میں چونک رہا ہوں آج
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






