مسکراتی ہے چاندنی دیکھو
Poet: wasim ahmad moghal By: wasim ahmad moghal, lahoreمسکراتی ہے چاندنی دیکھو
گُدگُداتی ہے چاندنی دیکھو
کچھ سناتی ہے چاندنی دیکھو
کچھ بتاتی ہے چاندنی دیکھو
اپنی نرم و گداز کرنوں سے
کیوں جگاتی ہے چاندنی دیکھو
کس کے ہونٹوں کو چوم آئی ہے
کھل کھلاتی ہے چاندنی دیکھو
کس کی زُلفوں کو چھو کے آئی ہے
ہوش اُڑاتی ہے چاندنی دیکھو
کس کی آنکھوں سے پی کے آئی ہے
ڈگمگاتی ہے چاندنی دیکھو
سازِ فطرت بجا رہا ہے کوئی
گیت گاتی ہے چاندنی دیکھو
ساتھ اُس کے ہوا بھی ہے ٹھنڈی
تھپتھپاتی ہے چاندنی دیکھو
کون آیا ہے دوستو بولو
جگمگاتی ہے چاندنی دیکھو
کس سے مل کر یہ آ رہی ہے حضور
چہچہاتی ہے چاندنی دیکھو
آج تُو جونہیں ہے پاس مرے
پھر ستاتی ہے چاندنی دیکھو
مجھ پہ باتیں بنا رہی ہے یہ
کیوں رُلاتی ہے چاندنی دیکھو
میں نے اِس کا کیا بگاڑا ہے
کیوں جلاتی ہے چاندنی دیکھو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






