مرا تو دور تلک تھا نہ واسطہ دل کا
Poet: اے بی شہزاد میلسی By: AB shahzad, Mailsiمرا تو دور تلک تھا نہ واسطہ دل کا
یہ لوگ سمجھے کہ میرا ہے ماجرہ دل کا
یہ روتی ہیں مری آنکھیں دیکھتا دل ہے
کہ لگتا ایسے ہے جیسے ہوں دل جلا دل کا
ابھی جوانی کے دن تھے اسے خبر کیا تھی
وہ مر گیا ابھی دورہ اسے پڑا دل کا
وہ طنطنہ نہ گیا میرے دل سے یار ابھی
یہ عشق ہجر کا بن روگ ہے گیا دل کا
ملا نہیں ہے کہیں عشق میرے کا درمان
نہیں ہوا ہے ابھی ختم مسئلہ دل کا
غریب شہر کا باسی تھا کون دینا ساتھ
یہ اس لیے ہی نہیں ہے جلا دیا دل کا
کٹے گی زیست مری ہجر کرب میں ساری
یہی تھا میرے تو شہزاد فیصلہ دل کا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






