محبت ہے مجھے تم سے میں یہ اقرار کرتی ہوں
Poet: Sara Afzal By: Sara Afzal, Pakistanمحبت ہے مجھے تم سے یہ میں اقرار کرتی ہوں
ہاں یہ اقرار تو جان وفا سو بار کرتی ہوں
تمہارا راستہ تکتی ہوں کھولے دل کا دروازہ
تمہارے واسطے سجتی ہوں میں سنگھار کرتی ہوں
خفا ہونے سے پہلے سوچ لینا تم ذرا اتنا
کہ تم ہی تو ہو دنیا میں جسے میں پیار کرتی ہوں
فقط مانگا ہے دل تم نے جو پہلے دے چکی تم کو
یہ دل کیا چیز ہے تم پہ میں جاں اپنی نثار کرتی ہوں
تمہیں معلوم ہی کیا ہے تمہیں بتلاؤں میں کیسے
تمارے ہجر کا دریا میں کیسے پار کرتی ہوں
تمہاری شاعری اک دن نہ میری جان لے ڈالے
تمہاری شاعری سےعشق اے دلدار کرتی ہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






