محبت سے الجھ کر
Poet: چوہدری پرویز افضل Ch Pervaiz Afzal By: Ch Pervaiz Afzal, Jhelum Sohawa/Dubai UAEعجیب شخص تھا وہ محبت سے الجھ کر
نت نئے طریقوں سے خود کو سلجھا رہا تھا
میری آنکھوں کے سامنے میرے چمن میں
وہ شخص میرا ہی ظرف آزما رہا تھا
اپنی ہی محفل میں بیگانہ سا لگا مجھے
وہ اپنی تنہائی کو مجھے سے چھپا رہا تھا
بات بات پے وہ مخا طب کرتا محفل کو
بن سنوار کے وہ مجھے دیکھا رہا تھا
میرے سوا محفل میں تھے سبھی اسکے
ا شا روں کناروں سے وہ مجھے سمجھا رہا تھا
دیما لہجہ جکی نظریں لڑکھڑاتی آواز
لبوں کی ہنسی کے پیچھےخود کو چھپا رہا تھا
یوں تو کٹ رہی ہے دونو ں کی زندگی پرویز
آج مجھے لگا وہ بچھڑ کر پچھتا رہا تھا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







