لاتعداد سوالوں کے آگے
Poet: Ch Pervaiz Afzal By: Ch Pervaiz Afzal , Jhelum/Sohawa/Dubaiلاتعداد سوالوں کے آگے
تمہاری خاموشی دیکھی نہیں جاتی
ان سبھی سوالوں کا جواب میں ہوں ناں؟
تو پھر نام لو میرا۔۔۔آپس کی بات ہے
اگر نام لینا مناسب نہ ہو تو
اشاروں کناروں سےسمجھا دینا
کیسے بدلہ تھا ہمارے پیار کا موسم
قصہ وصل وہجر سب سنا دینا
کوہی جانے انجانے میں مجھ بےوفا کہے
تو ہاں تم ہاں میں سر ہلا دینا
اگر کوہی برسات دیکھنا چاہتا ہے
تو میری آنکھوں کا پتہ بتا دینا۔
پوچھ لے اگر خزان کا کوہی
میرے چمن کا راستہ دیکھنا دینا
پرویز سوالوں کا سیلاب اگرتھمنے نہ پاے
میں ہوں ناں میری طرف بہا دینا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







