قَمرِ شوال
Poet: عاقل راجپوت By: عاقل راجپوت, Dubaiاپنے کاندھے کے تل کو، ڈھانپ کیوں نہی لیتی؟
اس غوشہِ دامن کو آخر، کب تک سنبھال رکھنا ہے؟
وہ بولی تُو مجھے دیکھے تو بس دیکھتا رہ جاۓ
اِس تل نے تیرا جینا یونہی محال رکھنا ہے
میں بولا خدارا بے ایمان ہوتا ہوں ایسے تو
وہ بولی تیری وحشتوں کا تجھ میں اُبال رکھنا ہے
دھڑکنوں کو سنبھالا تھا کے ہونٹ دبا کر دانت میں
کہتی ہے کب تک اپنی پلکوں کا یہ زوال رکھنا ہے؟
دھیرے دھیرے بڑھا کر قدم میری جانب وہ بولی
تیرے چہرے کو بس یونہی، میں نے لال رکھنا ہے
میں گھبراتا ہوا دو قدم پیچھے کو ہٹا اس سے
لپک کر کہنے لگی کب تک یہ ملال رکھنا ہے؟
بے اختیار ہو کر نظر پھِر اُس پر پڑی میری
اُس کا حُسن بولا کہ کِس چیز کا خیال رکھنا ہے؟
میری آنکھیں پھر تراشتی رہی اُس مُجسمے کو
دل بولا کیا اب بھی کوئی سوال رکھنا ہے؟
ماشأاللہ کہہ کر پھر، خیال یہ آیا مجھ کو عاقل
اپنے سامنے ہی اب یہ قمرِ شوال رکھنا ہے
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا






