قلندر کی نظر ہو تو در و دیوار چلتے ہیں
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiقلندر کی نظر ہو تو در و دیوار چلتے ہیں
انہیں کے در کو ہم جیسے کئ بیمار چلتے ہیں
نہیں خوابوں کی دنیا یہ ہے میخانہ فقیروں کا
خدا سے روز ملنے کو یہاں بیدار چلتے ہیں
بھلا تپتے انگاروں پر یہاں اب کون چلتا ہے
یہ دعوی تو سبھی کا ہے کہ لینے پیار چلتے ہیں
یہی تو سوچ کر جاناں میں تم سے دور رہتا ہوں
کہیں تم یہ نہ کہہ دو کہ سمندر پار چلتے ہیں
وہ اک دن ڈھونڈ لیتے ہیں محبت کی منازل کو
شہر والوں سے جو ہو کر کبھی سنگسار چلتے ہیں
میں حیراں ہوں کہ میرے تو نہیں احباب اتنے پر
پھر اتنے کیوں مرے اطراف میں غمخوار چلتے ہیں
بھلا اس جھوٹ کی دنیا سے باقرؔ ہم کو کیا لینا
چلو کچھ دن ٹھہرنے ہم دیارِ یار چلتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






